معاشرہ

Asia Bibi (Getty Images/AFP/A. Ali)
آسیہ بی بی کیس: خصوصی ضمیمہ
پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

تباہی کی ثبوت

پہلی عالمی جنگ کے دوران فوٹوگرافی کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس تصویر میں دریائے ماس کے کنارے واقع شہر ویردُو کی تباہی دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کو جرمن فوج نے فضا سے لیا تھا۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

پہلی عالمی جنگ کے اختتام کا پہلا غروب آفتاب

پیٹر والتھر کی کتاب ’پہلی عالمی جنگ رنگوں میں‘ میں 320 بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کو رنگوں سے مزین کیا گیا۔ یہ یورپ کی مختلف حکومتوں کے ریکارڈ سے حاصل ہونے والی تصاویر ہیں۔ یہ تصویر فرانسیسی شہر پیرس میں چودہ جولائی سن 1920 کو کھینچی گئی تھی۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

رنگوں سے نیاپن

بیلک اینڈ وائٹ تصاویر کو رنگین کرنے کی تکنیک سن 1904 میں لومیئر برادرز نے دریافت کی تھی۔ یہ تصویر الزاس کے مقام پر تین اکتوبر سن 1915 کو لی گئی تھی۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

محاذ پر

یہ تصویر سن 1916 میں شمال مشرقی فرانسیسی قصبے ویردو (Verdun) مقام کی ہے۔ اس میں ایک توپ گاڑی کو کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

عطیات کی اپیل

اس تصویر میں ایک فرانسیسی گولہ بارود کے مقام کو دکھایا گیا ہے۔ اسے سن 1918 میں کھینچا گیا تھا اور ایک امریکی کمیٹی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ یہ تصویر امریکیوں کے لیے کھینچی گئی تھی تا کہ وہ جنگ کی ہولناکی کااحساس کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر چندہ دے سکیں۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

ایک ذاتی فوٹو

پہلی عالمی جنگ کے دوران حکومتوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی تصاویر بنانے کی اجازت دی گئی۔ سپاہیوں کو بھی فوٹو بناننے کی باضابطہ اجازت دی گئی تھی۔ اس تصویر میں ایک فرانسیسی فوجی اپنے مورچے میں کھڑا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

فضائی جنگ

پہلی عالمی جنگ کے دوران پہلی مرتبہ فضائی جنگ کا تصور اور اس کی اہمیت محسوس کی گئی۔ ابتدا میں برطانوی اور فرانسیسی جنگی طیارے مشترکہ کارروائیں کرتے تھے۔ یہ تصویر مارن شہر کی جنگ کے دورن سن 1914 میں لی گئی تھی۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

ٹینک بھی میدان کارزار میں

پہلا ٹینک برطانیہ نے سن 1916 میں جنگ میں اتارا تھا۔ تصویر میں بھی برطانوی ٹینک دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر سن 1918 کی ہے۔ پہلے ٹینک کے بعد پہلی عالمی جنگ کے دوران ٹینکوں کا استعمال بتدریج بڑھتا گیا۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

جنگ کی رفتار

پہلی عالمی جنگ کے دوران نت نئے ہتھیاروں کا استعمال تواتر سے کیا گیا۔ اس میں ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور ایمبیولینسوں سے لے کر زہریلی گیسوں کا استعمال تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران انجن سے چلنے والی گاڑیوں نے اگلے محاذوں کو انتہائی خطرناک بنا دیا تھا۔ تصویر میں سن 1914 کے دور کی ایمبیولینس دکھائی گئی ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دور کی تصاویر میں رنگ بھر دیے گئے

آرٹ اور ثبوت

پہلی عالمی جنگ کے دوران لی گئی تصاویر جہاں ثقافتی ورثہ تصور کیا جاتا ہے وہاں اس جنگ کی تباہ کاریوں کا ثبوت بھی ہیں۔ پیٹر والتھر کی کتاب The First World War in Colour بیک وقت جرمن اور انگریزی میں شائع کی گئی ہے۔

آڈیو سنیے 04:00
Now live
04:00 منٹ
سیاست | 13.11.2018

ڈی ڈبلیو سے تازہ ترین عالمی خبریں

Albanian Shqip

Amharic አማርኛ

Arabic العربية

Bengali বাংলা

Bosnian B/H/S

Bulgarian Български

Chinese (Simplified) 简

Chinese (Traditional) 繁

Croatian Hrvatski

Dari دری

English English

French Français

German Deutsch

Greek Ελληνικά

Hausa Hausa

Hindi हिन्दी

Indonesian Indonesia

Kiswahili Kiswahili

Macedonian Македонски

Pashto پښتو

Persian فارسی

Polish Polski

Portuguese Português para África

Portuguese Português do Brasil

Romanian Română

Russian Русский

Serbian Српски/Srpski

Spanish Español

Turkish Türkçe

Ukrainian Українська

Urdu اردو